تل ابیب:9/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)گذشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی کے متنازع قانون پر ابتدائی رائے شماری کی گئی مگر اس موقع پر عرب کمیونٹی کے نمائندہ ارکان کنیسٹ نے اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے اس کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دیں۔ اسرائیلی کنیسٹ میں پیش کردہ قانون کے دو الگ الگ حصے ہیں۔ ایک حصے میں فلسطینی مساجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے اور دوسرے میں یہودی معابد میں لاؤڈ اسپیکروں پر جرس اور سیٹیاں بجانے کی ممانعت کی سفارش کی گئی ہے۔کنیسٹ میں یہ متنازع قانون گذشتہ کئی ماہ سے منظور کرانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ ترمیم کے بعد یہ قانون ایک بار پھر پارلیمنٹ میں رائے شماری کے لیے پیش کیا گیا۔ ابتدائی رائے شماری میں منظور کے بعد اب اس کی حتمی منظوری کے لیے دوسری اور تیسری رائے شماری کیعمل سے گذارا جائے گا۔اذان پر پابندی کے متنازع قانون کی منظوری کے بعد عرب متحدہ محاذ کے چیئرمین اور اسرائیلی کنیسٹ کے رکن ایمن عودہ نے مسودہ قانون کی کاپیاں پھاڑ کر پھینک دی۔